بھارتی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ! ایشیا کپ میں پاک بھارت میچ پر پابندی کی درخواست مسترد

بھارتی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ! ایشیا کپ میں پاک بھارت میچ پر پابندی کی درخواست مسترد

بھارتی سپریم کورٹ نے ایشیا کپ 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ پر پابندی کی انتہا پسندانہ درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کھیل کو سیاست سے علیحدہ رکھا جانا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے کھیل میں زبردستی سیاست لانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر کی گئی یہ درخواست قانون کے چار طلبہ کی جانب سے تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی کے باعث پاک-بھارت میچ کھیلنا شہریوں کے آئینی حقوق، خصوصاً آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے، جو زندگی اور ذاتی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔

درخواست گزاروں نے 14 ستمبر کو دبئی میں شیڈول پاک-بھارت میچ کو ’’غیر آئینی‘‘قرار دے کر اس پر پابندی کی اپیل کی تھی۔تاہم جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اس کیس پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے سادہ الفاظ میں ریمارکس دیے: ’’یہ صرف ایک میچ ہے‘‘۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ میچ روکنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، کھیلوں کو سیاست سے پاک رکھنا چاہیے۔

واضح رہے کہ ایشیا کپ 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلا میچ 14 ستمبر کو دبئی میں شیڈول ہے۔ اگر دونوں ٹیمیں اگلے راؤنڈز میں پہنچتی ہیں تو مزید دو میچز بھی ممکن ہیں، جن میں فائنل بھی شامل ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے اُن انتہا پسند عناصر کو زبردست جھٹکا دیا ہے جو کھیل کو قومی تعصب اور سیاسی دشمنی کا میدان بنانا چاہتے تھے۔ یہ فیصلہ نہ صرف کھیل کی روح کو برقرار رکھتا ہے بلکہ خطے میں اسپورٹس ڈپلومیسی کو فروغ دینے کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔

Scroll to Top