گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پنجاب سے خیبرپختونخوا کو گندم اور آٹے کی فراہمی میں مبینہ رکاوٹوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف بین الصوبائی تجارت متاثر ہو رہی ہے بلکہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ 31 اگست 2025 سے پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی بین الصوبائی ترسیل پر جو پابندی لگائی گئی، وہ نہ صرف آئین کی روح کے منافی ہے بلکہ قومی اتحاد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
The arbitrary ban imposed on August 31, 2025, by the Government of #Punjab on the supply of wheat and flour to #KhyberPakhtunkhwa is a blatant violation of Article 151 of the Constitution and a serious breach of national unity. As a result, the price of a 20kg bag of flour has…
— Faisal Karim Kundi (@fkkundi) September 11, 2025
انہوں نے مذید لکھا کہ آئین کا آرٹیکل 151 ملک بھر میں تجارت اور آمدورفت کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، تاہم یہ اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں، اگر ضروری ہو تو، اس پر کچھ پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔
گورنر کنڈی کے مطابق، پابندی کے نتیجے میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 1200 روپے میں دستیاب ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں یہی تھیلا 2800 روپے تک جا پہنچا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو امتیازی اور غریب عوام پر ناقابلِ برداشت بوجھ قرار دیا۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی کہ اس مبینہ زبانی حکم کی نہ صرف مذمت کی جائے بلکہ فوری طور پر اسے واپس بھی لیا جائے تاکہ غذائی اشیاء کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہونے والےپی ٹی آئی کے سینیٹرز کی تعداد 10 ہو گئی
فیصل کنڈی نے خیبرپختونخوا میں برسراقتدار پی ٹی آئی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر فلور ملز کو گندم کا کوٹہ فراہم کرے تاکہ آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو۔





