لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مال روڈ پر سپریم کورٹ کے جج کی گاڑی نذر آتش کرنے سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جو 125 صفحات پر مشتمل ہے۔
عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد مرکزی رہنماؤں سمیت دیگر ملزمان کو مختلف دفعات کے تحت سزا سناتے ہوئے قید اور جرمانے عائد کیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو مجموعی طور پر 48 سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں، جبکہ ان پر ڈیڑھ، ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
عدالت نے ہدایت دی ہے کہ تمام سزائیں ایک ساتھ کاٹی جائیں گی، اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید قید بھگتنا ہو گی۔
فیصلے کے روز غیر حاضری پر عدالت نے صنم جاوید، محمد صدیق، طیب علی، سید فیصل اختر اور ظریف خان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیےجبکہ خدیجہ شاہ سمیت 14 دیگر ملزمان کی گرفتاری کا حکم بھی دے دیا گیا۔
عدالت نے شاہ محمود قریشی کو مقدمے سے بری کر دیا۔
تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود کا کیس دیگر ملزمان سے مختلف تھا، کیونکہ انہوں نے اپنے دفاع میں یہ ثابت کیا کہ وہ وقوعہ کے وقت موقع پر موجود نہیں تھے۔ شواہد کے مطابق، واقعے کے روز شاہ محمود ملتان سے کراچی جا چکے تھے۔
مجموعی طور پر عدالت نے 18 ملزمان کو سزائیں سنائیں جب کہ 21 افراد جن میں شاہ محمود قریشی بھی شامل ہیں کو بری کر دیا گیا ہے۔





