وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا چارسدہ روڈپرمیٹ پراسیسنگ پلانٹ پر چھاپہ،سخت برہمی کا اظہار

پشاور: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے چارسدہ روڈ پر واقع محکمہ لائیو اسٹاک کے ماڈل میٹ پراسیسنگ پلانٹ اینڈ ٹریننگ سنٹر پر اچانک چھاپہ مارا۔

دورے کے دوران انکشاف ہوا کہ کروڑوں روپے مالیت کے جدید آلات سے لیس یہ بین الاقوامی معیار کا پلانٹ گزشتہ آٹھ ماہ سے مکمل طور پر بند پڑا ہے، جس پر وزیر اعلیٰ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کا فوری نوٹس لیا۔

وزیر اعلیٰ کو کچھ روز قبل شکایات موصول ہوئی تھیں کہ یہ پلانٹ طویل عرصے سے غیر فعال ہے اور سرکاری وسائل کے باوجود عوامی فائدے میں استعمال نہیں ہو رہا۔

دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے پلانٹ میں موجود قیمتی مشینری اور ساز و سامان کو غیر مستعمل حالت میں دیکھ کر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فوری ایکشن لینے کا حکم دیا۔

علی امین گنڈاپور نے متعلقہ حکام کو 15 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس تاریخ تک پلانٹ اور ٹریننگ سنٹر کو مکمل طور پر فعال بنایا جائے بصورت دیگر غفلت برتنے والے تمام افسران و ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ ٹریننگ سنٹر میں تربیتی سرگرمیوں کے آغاز کے لیے فوری رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جائے اور وہاں قائم ماڈل میٹ شاپ کو بھی فعال کیا جائے تاکہ عوام کو اس منصوبے کے عملی ثمرات مل سکیں۔

وزیر اعلیٰ نے ماڈل ٹریننگ سنٹر میں بین الاقوامی معیار کی سرٹیفکیشن کے عمل کے آغاز کے لیے بھی ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ ایسے ماڈل میٹ پراسیسنگ پلانٹس کو صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی متعارف کرایا جائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ منصوبے کی پائیدار کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کی جائے اور سرمایہ کاروں کو راغب کر کے اس ماڈل کو وسعت دی جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بنایا گیا ہے اور حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے ثمرات جلد از جلد عوام تک پہنچائے جائیں۔

وزیر اعلیٰ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ صوبے میں قائم دیگر عوامی خدمات کے مراکز پر بھی ایسے ہی اچانک چھاپے مارے جائیں گے تاکہ ان کی حقیقی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔

Scroll to Top