بھارت کی وزارت خارجہ نے امریکہ کی جانب سے ایچ ون بی ورک ویزا کی فیس میں یک دم اضافے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے اس اقدام کے انسانی اور سماجی اثرات ہو سکتے ہیں خاص طور پر متاثرہ خاندانوں کی زندگیوں میں خلل پڑنے کا خدشہ ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ نئی سالانہ فیس جو ایک لاکھ ڈالر تک مقرر کی گئی ہے اس سے متعدد خاندان متاثر ہو سکتے ہیں، بھارت نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکی حکام اس صورتحال کو مناسب طریقے سے سنبھالیں گے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ یہ فیس صرف نئے درخواست دہندگان پر لاگو ہوگی اور موجودہ ویزہ ہولڈرز یا ان کی تجدید پر اثر نہیں کرے گی۔
ایچ ون بی ویزا کے ذریعے امریکی کمپنیاں ماہر پیشہ ور افراد جیسے سائنسدان، انجینئرز اور کمپیوٹر پروگرامرز کو امریکہ میں کام کی اجازت دیتی ہیں جو عموماً تین سال کے لیے ہوتی ہے اور بعد میں چھ سال تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
گزشتہ سال بھارت کو اس ویزا کا سب سے بڑا فائدہ حاصل ہوا تھا جس میں 71 فیصد منظور شدہ درخواست دہندگان بھارتی تھے۔
اسی روز بھارت کی سب سے بڑی تجارتی تنظیم ناسبم نے بھی اس اچانک پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کیا، ناسبم نے کہا کہ ایچ ون بی ویزا کی فیس میں اضافہ ایک دن کی نوٹس پر نافذ کرنے سے بھارتی شہریوں اور ملک کی آئی ٹی اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کا اثر جاری ٹیکنالوجی پروجیکٹس کی روانی میں رکاوٹ ڈالے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ورک ویزا کی فیس میں بھاری اضافہ، امیدوار اور کمپنیاں سر پکڑ کر بیٹھ گئیں
نسابم نے کہا کہ ایک دن کی ڈیڈ لائن سے کاروباری حضرات، ماہرین اور طلبہ کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، اس نئی پالیسی کے ممکنہ منفی اثرات امریکی جدت طرازی کے نظام اور عالمی ملازمت کے بازاروں پر بھی پڑ سکتے ہیں جس سے کمپنیوں کو اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔





