خیبر پختونخوا کی جیلوں میں قیدیوں کی تعلیم پر پابندی عدالت میں چیلنج

پشاور: خیبر پختونخوا کی جیلوں میں قید منشیات کے قیدیوں کی تعلیم پر پابندی کے خلاف ایک درخواست پشاور ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے۔

درخواست فواد افضل صافی ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے، جس میں آئی جی جیل خانہ جات اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ 29 اگست کو آئی جی جیل خانہ جات نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں منشیات کے مقدمات میں قید قیدیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

جاری کردہ ایس او پیز کے مطابق منشیات کے قیدی معافی کے لیے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ تعلیم قیدیوں کا بنیادی آئینی حق ہے اور انہیں تعلیم سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں : وزیر دفاع نے حارث روف کی بھارتی شائقین کو جواب دینے کی حمایت کر دی

انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ 29 اگست کے اس اعلامیہ کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے تاکہ قیدیوں کو ان کا حق تعلیم فراہم کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ یہ درخواست اس پابندی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز ہے جسے قیدیوں نے اپنے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عدالت نے درخواست کی سماعت کے لیے مقدمہ مقرر کر لیا ہے۔

Scroll to Top