قرضوں کی نہیں، ماحول دوست پالیسیوں کی ضرورت ہے، وزیراعظم شہباز شریف

نیو یارک : وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ قرض، قرض اور مزید قرض موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کا حل نہیں ہے۔

نیویارک میں سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسز میں کمی کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے اور متبادل توانائی اور گرین انرجی کو فروغ دے رہا ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے ترجیحی بنیادوں پر ملک بھر میں شجر کاری بھی جاری ہونے کا ذکر کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور 2022ء کے سیلاب نے ملک کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا ہے۔

نیویارک میں میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر یونس سے ملاقات کو بہت مثبت قرار دیا اور کہا کہ بنگلادیش کے ساتھ باہمی تعلقات میں روز بروز بہتری آ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک برادرانہ تعلقات کو آگے بڑھائیں گے اور دوطرفہ تجارت و سفارتی روابط کو مزید فروغ دیں گے۔

وزیراعظم نے معرکہ حق پاکستان کو عظیم فتح قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کی عسکری قوت کو پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : معرکہ حق پاکستان کی عظیم فتح، پاک افواج نے دشمن کے عزائم خاک میں ملادیے، وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ افواج کی بہادری اور فیلڈ مارشل کی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت ہندوستان کی غرور کو خاک میں ملایا گیا۔

فیلڈ مارشل نے پوری دنیا کو جنگ لڑنے کا درست انداز دکھایا اور پاک فضائیہ کی شاہینوں نے پیشہ ورانہ تربیت کا اعلیٰ مظاہرہ کیا۔

Scroll to Top