پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے میرے امن کے منصوبے کی مکمل حمایت کی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کے امن منصوبے سے متعلق اہم اعلانات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل (فیلڈ مارشل) عاصم منیر نے ان کے 20 نکاتی امن فارمولے کی مکمل حمایت کی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نہ صرف منصوبے کا خیر مقدم کیا بلکہ اس پر مثبت ردعمل بھی دیا، جو ان کے بقول خطے میں امن کے لیے ایک مضبوط اشارہ ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان کی تجویز کردہ امن حکمت عملی کو مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر عرب اور مسلم ممالک کی مکمل تائید حاصل ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران سے متعلق معاملات پر بھی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے۔

ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں کہا آج مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔ ہم غزہ میں جاری تنازع کے خاتمے کے قریب ہیں اور اسرائیلی قیادت نے ہمارے امن معاہدے کو تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی ولی عہد کو بہترین انسان اور امیر قطر کو غیر معمولی شخصیت قرار دیا، اور کہا کہ عرب دنیا حماس سے رابطے کرے گی تاکہ امن معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حماس نے معاہدہ تسلیم نہ کیا تو نیتن یاہو کو اپنی مرضی کے اقدامات کا اختیار حاصل ہوگا۔

ٹرمپ نے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو اس کے خلاف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی ترجیح غزہ میں موجود یرغمالیوں کی واپسی ہے، جن میں سے 32 کی اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 22 افراد زندہ ہیں جنہیں واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ٹورنٹو جانے والوں کے لیے خوشخبری: پی آئی اے کی پروازیں بحال

ایک حیران کن اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ خود غزہ میں قائم کی جانے والی عبوری انتظامیہ کے صدر ہوں گے، جبکہ سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر بھی اس عبوری حکومت کا حصہ ہوں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ نئی انتظامیہ فلسطینی نمائندوں اور عالمی ماہرین پر مشتمل ہو گی۔

ٹرمپ نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو ایک بار پھر تسلیم کرنے کا اعادہ کیا، اور دعویٰ کیا کہ مسلم ممالک نے غزہ کو غیر فوجی علاقہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

Scroll to Top