افغانستان میں انٹرنیٹ کی بندش سے پروازیں منسوخ، بینکنگ کا نظام مفلوج ہوگیا

افغانستان میں انٹرنیٹ کی بندش سے پروازیں منسوخ، بینکنگ کا نظام مفلوج ہوگیا

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز بند کیے جانے کے بعد نہ صرف عوامی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، بلکہ کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اس اقدام نے افغانستان کو عملی طور پر دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔

بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کی بندش کے باعث نہ صرف شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہوئی ہے بلکہ بینکنگ، آن لائن بزنس، رقوم کی ترسیل، ڈاک اور دیگر بنیادی سہولیات بھی مکمل طور پر رک چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ یوناما (UNAMA) نے صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت سے فوری طور پر انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام افغان عوام کو مزید معاشی بدحالی اور انسانی بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔

یوناما کے مطابق، انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ خواتین اور بچیوں پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی سے محروم کی جا چکی ہیں۔

بینکوں کے عملے نے میڈیا کو بتایا کہ آن لائن ٹرانزیکشنز، نقدی نکالنے اور رقوم کی منتقلی سمیت تمام مالیاتی سرگرمیاں مکمل طور پر تعطل کا شکار ہیں۔ ڈاک خانوں نے بھی کام بند کر دیا ہے، جب کہ ایئر ٹریفک کنٹرول متاثر ہونے کے باعث فضائی آپریشن بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ طالبان حکومت نے پیر کی شام فائبر آپٹک نیٹ ورک کو منقطع کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ خدمات اچانک بند ہو گئیں۔ انٹرنیٹ سروس کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے “نٹ بلاکس” (NetBlocks) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ ایک منظم اور جان بوجھ کر کی گئی بندش ہے، جس کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو افغانستان میں نہ صرف انسانی بحران شدت اختیار کرے گا بلکہ ملک کی معاشی تنزلی اور عالمی تنہائی مزید گہری ہو جائے گی۔

Scroll to Top