پاک افغان سرحد پر واقع انگور اڈہ بارڈر کو دو سال کی بندش کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی تجارتی گاڑیوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بھی بحال ہو گیا ہے۔ بارڈر کھلنے کے ساتھ ہی خطے میں معاشی سرگرمیوں میں ایک نئی روح پھونک دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، جنوبی وزیرستان کی تحصیل برمل میں واقع انگور اڈہ بارڈر گزشتہ دو برسوں سے سیکیورٹی اور دیگر انتظامی وجوہات کے باعث بند تھا، جس کے باعث نہ صرف تجارتی سرگرمیاں ماند پڑ گئی تھیں بلکہ مقامی معیشت پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔
یکم اکتوبر سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی نقل و حرکت کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر ایک پروقار افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈپٹی کمشنر، رکنِ قومی اسمبلی، سول و عسکری حکام، قبائلی عمائدین، علما کرام اور مقامی اسکولوں کے بچوں نے شرکت کی۔ تقریب میں قومی پرچم لہرا کر سرحد کی دوبارہ بحالی کا خیرمقدم کیا گیا۔
تاجر برادری نے انگور اڈہ بارڈر کی بحالی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بارڈر کی بندش کے باعث انہیں اربوں روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اب اس اہم تجارتی راستے کے دوبارہ کھلنے سے معیشت کی بحالی، روزگار کے مواقع اور عوامی ریلیف کی راہیں ہموار ہوں گی۔
مقامی عوام، خاص طور پر برمل اور آس پاس کے علاقوں کے رہائشیوں نے بھی بارڈر کی بحالی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی ہے کہ یہ قدم خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کا باعث بنے گا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق بارڈر پر تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں مرحلہ وار بڑھائی جائیں گی۔





