نیشنل سائبر کرائم اینڈ انویسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ کے استعمال کے معاملے پر ایک بار پھر تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ تفتیش پی ٹی آئی بانی کی جانب سے سوالنامے کے تحریری جواب نہ دینے اور سوشل میڈیا پر جاری نئی پوسٹس کی روشنی میں کی جا رہی ہے۔ این سی سی آئی اے نے حالیہ ٹوئٹس کو بھی تحقیقات کا حصہ بنا لیا ہے۔
تحقیقات سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ ادارے نے بانی پی ٹی آئی کو 21 نکاتی سوالنامہ ارسال کیا تھا، جس میں دریافت کیا گیا کہ جیل میں ہونے کے باوجود ایکس اکاؤنٹ کس طرح فعال ہے؟اکاؤنٹ کہاں سے اور کون آپریٹ کرتا ہے؟کیا آپ ایکس پر کی جانے والی پوسٹس سے خود واقف اور متفق ہیں؟بعض پوسٹس میں ریاست مخالف مواد کس کی اجازت سے شائع کیا جاتا ہے؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے پہلی بار تفتیش کے دوران این سی سی آئی اے سے مکمل تعاون نہیں کیا، اور سوالات کے تحریری جواب دینے کے بجائے سوشل میڈیا پر متنازع ٹوئٹس جاری کر دیں۔ تفتیشی ٹیم ان ٹوئٹس کو بھی تحقیقات کا حصہ بنا کر، ان پر وضاحت طلب کرے گی۔
ذرائع کے مطابق، تفتیشی ٹیم اب تک دو مرتبہ بانی تحریک انصاف سے ملاقات کر چکی ہے، تاہم دوسری ملاقات میں ماحول تلخ ہو گیا اور عمران خان نے مبینہ طور پر سخت ردِعمل کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد این سی سی آئی اے نے تحریری سوالنامہ ان کے حوالے کیا۔
ادارے کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال اور ممکنہ قانونی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی تحقیقات کو شفاف انداز میں مکمل کرے گا، تاکہ حقائق قوم کے سامنے لائے جا سکیں۔





