جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما اور رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا حالیہ دورہ امریکا اہم ضرور ہے، مگر ہمیں یاد ہے کہ مشکل کی ہر گھڑی میں امریکا نے وہ ساتھ نہیں دیا جو چین نے دیا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ امریکا سے ماضی میں دوستی کا خمیازہ پاکستان کو بھاری قیمت ادا کر کے بھگتنا پڑا۔ ’’حکمران اگر امریکا کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں تو رفتہ رفتہ اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھیں۔ پاکستان کو ایک بار پھر میٹھی باتوں میں آ کر استعمال نہ کیا جائے۔
قومی اخبار(روزنامہ جنگ )کے مطابق مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ امریکا اور بھارت کے خفیہ گٹھ جوڑ نے کئی خطوں میں امن کو متاثر کیا ہے۔ ’’اگر امریکا کو ہوائی اڈے دیے گئے تو خطے کا امن مزید خراب ہو جائے گا‘‘
انہوں نے چین کی پاکستان سے دوستی کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین ہر نازک وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ ’’چین کے صوبے سنکیانگ میں 60 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے اور چین وہاں کی ترقی کے لیے 80 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اگر چین اپنے مسلمانوں کو ترقی دے رہا ہے تو ہمیں بھی اپنے صوبوں خصوصاً بلوچستان پر توجہ دینی چاہیے۔‘‘
بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اس اہم صوبے کے حالات بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ ’’تفتان کا سفر اب بھی ایک سنگل سڑک پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے حادثات معمول بن چکے ہیں‘‘ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔
مزید برآں، انہوں نے سعودی عرب اور پاکستان کے مابین ہونے والے دفاعی معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی اس معاہدے کو امت مسلمہ کے اتحاد کی جانب اہم قدم سمجھتی ہے۔ ’’مولانا فضل الرحمٰن نے ہمیشہ مسلم دنیا کے اتحاد کے لیے آواز بلند کی ہے‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر اسلامی ممالک ایک مشترکہ دفاعی پلیٹ فارم پر متحد ہو جائیں تو دنیا میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا مؤثر جواب دیا جا سکتا ہے۔ ’’اسرائیل کی فلسطین میں بربریت اور قتل عام قابل مذمت ہے، اگر اسرائیل جنگ بندی پر راضی ہوا ہے تو اس میں مسلم ممالک کے بڑھتے ہوئے اتحاد کا دباؤ شامل ہے۔‘‘
مولانا نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک بھی اس معاہدے کا حصہ بنیں تاکہ عالم اسلام کا دفاع مضبوط ہو۔





