وفاقی حکومت کی اعلیٰ سطح مذاکراتی کمیٹی مظفرآباد پہنچ گئی ہے جہاں انہوں نے کشمیری عوام کے جائز مطالبات سننے اور ان کے حل کے لیے عزم کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ خطے کی موجودہ صورت حال کو سمجھتے ہوئے ان مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
وزیراعظم آزادکشمیر نے مذاکراتی کمیٹی کے قیام پر وزیر اعظم شہباز شریف کو سراہا اور کہا کہ جو بھی جائز مطالبات رہ گئے ہیں، ان پر بات چیت کے ذریعے تعطل ختم کیا جائے گا۔ احسن اقبال نے کہا کہ کچھ عناصر امن و امان کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، تاہم حکومت عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ہمیں بیٹھ کر جائز مطالبات پر بات کرنی ہوگی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر تمام غلط فہمیاں دور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے لوگ ہمارے بھائی ہیں اور ان کے ساتھ مل کر مسائل حل کریں گے۔
امیر مقام نے بھی کہا کہ احتجاج اور تشدد سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، مسائل کا حل بات چیت میں ہی ممکن ہے۔ پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ قیادت معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتی ہے اور مل بیٹھ کر تمام مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
یہ مذاکراتی کوششیں کشمیری عوام کے دیرینہ مسائل کے پرامن حل کی جانب ایک مثبت قدم سمجھی جا رہی ہیں۔





