خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس، 3000 سے زائد اساتذہ کی بھرتی کی منظوری

پشاور: خیبر پختونخوا کابینہ نے صوبے کے عوامی مفاد اور گورننس میں بہتری کے لیے کئی اہم فیصلوں کی منظوری دے دی ہے، جن میں اساتذہ کی بھرتیاں، خواتین کے جائیداد میں حقوق کا تحفظ، نئے اضلاع کا قیام اور تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ شامل ہیں۔

صوبائی وزیراطلاعات بیرسٹر سیف نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سرکاری کالجز میں تدریسی عمل کو مؤثر بنانے کے لیے تین ہزار سے زائد اساتذہ کی بھرتی کی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان بھرتیوں سے تعلیمی اداروں میں عملے کی کمی دور ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیم کا معیار بھی بہتر ہوگا۔

بیرسٹر سیف کے مطابق سیاحت اور عوامی سہولیات میں بہتری کے لیے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت دیگر اتھارٹیز کو ایک ارب روپے کی گرانٹ اِن ایڈ فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ سیاحتی انفراسٹرکچر اور خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔

کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ بعض اسکولز اور کالجز کو پائلٹ بنیادوں پر آؤٹ سورس کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد جدید انتظامی ماڈلز کو متعارف کروا کر تعلیمی معیار میں بہتری لانا ہے، تاہم یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان اداروں میں تعلیم مفت رہے گی اور اساتذہ کی سرکاری ملازمتیں محفوظ ہوں گی۔

خواتین کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر خیبر پختونخوا کابینہ نے ویمن پراپرٹی رائٹس رولز 2025 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت خواتین کو جائیداد میں اپنے قانونی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت آخری سانسیں لے رہی ہے، شیر افضل مروت

انتظامی امور میں بہتری کے لیے دو نئے اضلاع پہاڑپور اور اپر سوات کے قیام کی بھی منظوری دے دی گئی ہے، جس سے مقامی سطح پر حکمرانی اور سروس ڈیلیوری میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کے یہ فیصلے صوبے میں اچھی حکمرانی، تعلیم کی بہتری، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور مؤثر انتظامی نظام کے قیام کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔

Scroll to Top