خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع پولیس ٹریننگ اسکول رتہ کلاچی پر فتنہ خوارج کا بڑا حملہ سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ حملے کے دوران 6 دہشت گرد ہلاک جبکہ 7 بہادر پولیس اہلکار شہید اور 13 زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ شب اس وقت پیش آیا جب دہشت گردوں نے بارود سے بھرا ٹرک ٹریننگ سینٹر کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دیا، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے فوری بعد مختلف یونیفارمز میں ملبوس دہشت گرد فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند گولیاں چلائیں۔
پولیس اہلکاروں نے جرات مندی سے مقابلہ کیا اور دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا۔ پانچ گھنٹے طویل بھرپور آپریشن کے دوران دہشت گرد دستی بم بھی پھینکتے رہے، تاہم جوان مردی سے لڑتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے انہیں ایک ایک کر کے انجام تک پہنچایا۔
ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان صاحبزادہ سجاد احمد اور آر پی او سید اشفاق انور نے خود موقع پر موجود رہ کر آپریشن کی قیادت کی۔ کارروائی میں ایلیٹ فورس، البرق فورس، ایس ایس جی کمانڈوز اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے حصہ لیا۔ ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے خودکش جیکٹس، بھاری اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کر لیا گیا ہے۔
ڈی پی او کے مطابق حملے کے وقت ٹریننگ سینٹر میں 200 سے زائد ٹرینی ریکروٹس، اساتذہ اور عملہ موجود تھا، جنہیں بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے علاقے کو کلیئر قرار دیتے ہوئے بتایا کہ سرچ اینڈ کلین آپریشن جاری ہے تاکہ باقی خطرات کا سدباب کیا جا سکے۔ انہوں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، اور کامیاب آپریشن میں حصہ لینے والے تمام اہلکاروں کے لیے انعامات کا اعلان کیا۔
واقعے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور سیکیورٹی ادارے مزید الرٹ ہو گئے ہیں۔ قوم نے ایک بار پھر اپنی بہادر پولیس فورس کی قربانیوں کو سلام پیش کیا ہے۔





