پشاور ہائیکورٹ نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)کی جانب سے نو منتخب وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا عمل چیلنج کرنے کے حوالے سے دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔
عدالت نے دونوں جانب سے طویل دلائل مکمل ہونے کے بعد جےیو آئی کی درخواست خارج کردی۔
درخواست جے یو آئی کے رکن صوبائی اسمبلی لطف الرحمان کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ علی امین گنڈاپور کا بطور وزیر اعلیٰ استعفیٰ منظور نہیں ہوا اور دوسرا وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوگیا،نو منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے انتخاب کا عمل غیر قانونی غیر آئینی ہے۔
رخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ عدالت سہیل آفریدی کے بطور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے عمل کو کالعدم قرار دے۔
عدالت نے دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سنادیا اور جے یو آئی کی درخواست خارج کردی۔
یہ پڑھیں : نومنتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے حلف اٹھا لیا
نومنتخب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے آج اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ سے حلف لیا۔
گورنر ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں اپوزیشن کے ارکان اسمبلی کے علاوہ کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دیگر صوبائی ارکان اسمبلی نے بھی اس اہم موقع پر شرکت کی۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی آئینی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے گورنرخیبرپختونخوا کو نو منتخب وزیراعلی سے حلف لینے حکم دیا تھا۔
عدالت نےگورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو نو منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے آج 4 بجے تک حلف لینے کا حکم دیا تھا۔





