پاک افغان کشیدگی کے باعث طورخم تجارتی گزرگاہ آٹھویں روز بھی بند

پاک افغان کشیدگی کے باعث طورخم تجارتی گزرگاہ آٹھویں روز بھی بند ہے جس کے باعث ہزاروں مال بردار گاڑیاں سرحدی علاقے میں پھنس کر رہ گئی ہیں۔ اس بندش کی وجہ سے دو طرفہ تجارت، کاروباری سرگرمیاں اور آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو چکی ہیں۔

پاکستان افغانستان کو سیمنٹ، ادویات، کپڑا، تازہ پھل، سبزیاں اور دیگر اشیاء برآمد کرتا ہے جبکہ افغانستان سے پاکستان کو کوئلہ، سوپ اسٹون، خشک اور تازہ پھل سمیت دیگر اشیاء درآمد کی جاتی ہیں۔ طورخم پر مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں، جس سے سرحدی علاقوں میں کاروبار بند ہو کر تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

کسٹمز ذرائع کے مطابق طورخم گزرگاہ سے یومیہ اوسطاً 85 کروڑ روپے کی دو طرفہ تجارت ہوتی ہے، جس میں 58 کروڑ روپے کی ایکسپورٹ اور 25 کروڑ روپے کی درآمد شامل ہے۔ گزرگاہ کی بندش کے باعث تجارتی سامان کی منتقلی شدید متاثر ہو رہی ہے، اور سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نہ صرف تجارتی نقصان ہو رہا ہے بلکہ معاشی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز حکام سے فوری طورخم گزرگاہ کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ تجارت کا سلسلہ بحال ہو سکے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہو سکیں۔

Scroll to Top