حکومت پاکستان نے تقریباً 45 سال قبل ملک بھر میں قائم کیے گئے افغان پناہ گزین کیمپوں میں سے 16 کو مکمل طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ وزارت سیفرون کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کیمپ ہری پور، چترال، اپر دیر، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، پشین، کوئٹہ، میانوالی اور دیگر علاقوں میں قائم تھے۔
تفصیلات کے مطابق افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا عمل ملک بھر میں تیزی سے جاری ہے اور اس حوالے سے بڑے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق پاکستان میں 30 جون 2025 تک ساڑھے 13 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ افغان پناہ گزین موجود تھے، تاہم غیر دستاویزی افراد سمیت افغانوں کی کل آبادی کا تخمینہ 25 لاکھ سے زیادہ لگایا جاتا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں قائم 10 کیمپ، پنجاب کے میانوالی کا کیمپ اور خیبر پختونخوا کے 43 کیمپوں میں سے پانچ کیمپ بند کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ ان کیمپس میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی اکثریت پہلے ہی وطن واپس جا چکی ہے جبکہ باقی ماندہ افراد بھی جلد واپسی کی تیاری میں ہیں۔

یہ قدم پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی اور ملک کی سرحدی سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کو مکمل سپورٹ فراہم کی جائے گی تاکہ یہ سلسلہ پرامن اور منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔

یہ اقدام پاکستان کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کے لیے ایک نئے دور کی شروعات تصور کیا جا رہا ہے، جس میں ملک کی سلامتی اور مہاجرین کی فلاح و بہبود دونوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔





