چین نے پاکستان اور افغانستان کے مابین ہونے والے حالیہ جنگ بندی معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
چینی خبر رساں ادارے ژنہوا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکُن نے ایک پریس بریفنگ کے دوران اس پیش رفت کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان چین کے قریبی ہمسایہ اور دوست ممالک ہیں، اور دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ چین نہ صرف جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے بلکہ ان تمام ممالک کی کوششوں کو بھی سراہتا ہے جنہوں نے اس معاہدے کو ممکن بنانے میں معاونت فراہم کی، خاص طور پر قطر اور ترکی کی ثالثی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ قطر کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور افغانستان نے قطر اور ترکی کی ثالثی میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے اور دونوں ملک اس معاہدے کے تسلسل کے لیے مذاکرات جاری رکھیں گے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اس جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک 25 اکتوبر کو استنبول میں ایک اور مذاکراتی دور میں شرکت کریں گے۔
گو جیاکُن نے کہا کہ چین خلوص دل سے امید کرتا ہے کہ اسلام آباد اور کابل باہمی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں گے، دیرپا اور مکمل جنگ بندی کے لیے راہیں ہموار کریں گے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام میں اپنا کردار جاری رکھیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چین، بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری اور ترقی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔





