اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل کو غزہ میں دوبارہ بھیج کر حماس ختم کروا دوں گا، ٹرمپ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ اگر ضرورت ہوئی تو وہ اسرائیل کو دوبارہ غزہ میں داخل کر کے تنظیمِ حماس کو ختم کروانے کا حکم دے سکتے ہیں۔

صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے مطابق اسرائیلی فوج مختصر وقت میں کارروائی کر کے حماس کا خاتمہ کر سکتی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس حماس کے ساتھ ایک معاہدہ موجود ہے اور توقع ہے کہ حماس اس کی پاسداری کرے گی، مگر اگر وہ اس معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرے گی تو سخت جواب دیا جائے گا۔

اُن کا یہ بیان گزشتہ دنوں دیے گئے ایک بیان کی تکرار بھی معلوم ہوتا ہے جس میں انہوں نے خبرداری دی تھی کہ معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں دوبارہ فوجی کارروائی کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

صدرِ امریکہ نے مزید کہا کہ فی الحال وہ معاملے کو ہنگامی کیفیت میں نہیں لانا چاہتے اور جنگ بندی برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

تاہم اُنہوں نے واضح کیا کہ اگر اُن کی ہدایت ہوئی تو اسرائیلی فوج دو منٹ میں غزہ کے اندر جا کر حماس کو ختم کر سکتی ہے، ایک بیان جس نے کشیدگی کے امکان کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔

سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حماس نے تاحال یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی کے عمل میں پوری طرح تعاون نہیں کیا ہے اور اس معاملے پر اُنہوں نے سخت الفاظ استعمال کیے۔

یہ بھی پڑھیں : باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز اور پی وائی پی کی مشترکہ کوشش، فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد

صدر نے کہا کہ وہ حماس کو معاہدے کی پاسداری کا پیغام دے رہے ہیں اور جیسے ہی ضرورت محسوس ہوئی، اسرائیل کو کارروائی کی منظوری دے دیں گے۔

ایسی کسی بھی منظوری سے خطے میں تشدد کی لہر بڑھنے کا خطرہ موجود ہے اور بین الاقوامی سطح پر ردِ عمل کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ صدر کے ان بیانات کے بعد آئندہ چند روز میں امریکی خارجہ پالیسی، علاقائی شراکت داروں کے ردعمل اور اقوامِ متحدہ یا دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے صیغہ معاملات پر ممکنہ موقف کی طرف توجہ مرکوز رہے گی۔

Scroll to Top