اسلام آباد : وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ بانیِ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ملاقاتوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ملاقات میں کوئی رکاوٹ ہے تو حکومت اس کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانیِ پی ٹی آئی کو خانۂ بنی گالہ منتقل کرنے کے لیے بھی حکومت تیار ہے، ارادہ ہے کہ وہ درخواست دیں۔
اپنے بیان میں وزیر نے کہا کہ جیل میں بانیِ پی ٹی آئی کی پوری فیملی اُن سے ملاقات کرتی ہے اور وکلا بھی حاضر رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی شخصیات کو بانی سے ملاقات کا موقع دینا چاہیے۔ اگر پی ٹی آئی درخواست کرے تو بانی کو بنی گالہ شفٹ کرنا ممکن ہے۔
طارق فضل چودھری نے یہ بھی کہا کہ بانیِ پارٹی سسٹم کو بگاڑ رہے ہیں اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے صوبائی عہدہ سنبھالنے کے بعد انتشار کی کیفیت رہی۔
وزیر نے یہ بھی کہا کہ انہیں پہلے سے معلوم ہے کہ سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف کونسی لابی سرگرم تھی اور ان کا تعلق سہیل آفریدی کی ذات سے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے عزم سے ہے۔
انہوں نے دعائیہ انداز میں کہا کہ اُن کی خواہش ہے کہ سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے عوام کی بہتر خدمت کریں۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں، اور حکومت اُن میں کامیاب ہوگی۔ اس وقت مالیاتی اور معاشی استحکام سمیت دیگر امور انتخابات سے زیادہ اہم ہیں۔
طارق فضل چودھری نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارتی کامیابیوں نے بین الاقوامی سطح پر ملک کی عزت و وقار کو فروغ دیا ہے، اور افغانستان کے اندر دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف کارروائی اس کا عملی ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ریاستی اداروں پر الزامات اور فیک نیوز کا معاملہ،پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار کیخلاف مقدمہ درج
نیشنل سائبر کرائمز ایجنسی( این سی سی آئی اے) نے پی ٹی آئی کی خاتون رکن اسمبلی شاندانہ گلزار خان کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ نمبر 296/2025 درج کر لیا ہے۔
ملزمہ پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ریاست مخالف مواد پھیلانے کا الزام ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ شاندانہ گلزار نے متعدد جعلی اور گمراہ کن ٹویٹس اور ویڈیوز شیئر کیں جن میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز بیانات شامل تھے۔ ان ٹویٹس سے نسلی اور لسانی نفرت کو بھی ہوا دی گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمہ نے وزیراعظم پاکستان سے متعلق جعلی تصویر اور غلط معلومات پھیلائیں اور جھوٹی خبر میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات کا الزام لگایا جس سے عوام میں خوف، بے چینی اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پھیلی۔
تحقیقات میں ثابت ہوا کہ شاندانہ گلزار نے جان بوجھ کر فیک نیوز کے ذریعے ریاست مخالف بیانیہ آگے بڑھایا۔ اس کے خلاف پی ای سی اے 2016 کے سیکشن 11، 20 اور 26-اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ ریاست مخالف مہم کے پیچھے موجود دیگر عناصر اور معاونین کو بھی گرفتار کیا جا سکے۔





