آخونزادہ فضل حق
مردان: مردان کالج کے طلبہ نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کی جانب سے واپس کی گئی عمارت کی حالت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عمارت کا باقی حصہ بھی جلد از جلد کالج کے حوالے کیا جائے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ 2009 سے ان کی یونیورسٹی میں مختلف مسائل جاری ہیں جو کئی بار احتجاجوں اور دھرنوں کی صورت میں سامنے آ چکے ہیں۔
ان کے مطابق حال ہی میں انہیں عمارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ واپس کیا گیا ہے جس میں دو ہاسٹل اور 36 کمرے شامل ہیں، تاہم واپس کی گئی عمارت خستہ حالی کا شکار ہے۔
طلبہ نے کہا کہ جب یہ عمارت یونیورسٹی انتظامیہ کے حوالے کی گئی تھی تو معاہدہ کیا گیا تھا کہ وہ اسے اسی حالت میں واپس کریں گے، مگر اب لائٹس، پنکھے اور دیگر سہولیات ناقابلِ استعمال ہیں۔
طلبہ کے مطابق اس عمارت کی واپسی سے وقتی طور پر ریلیف ضرور ملا ہے کیونکہ اس سال طلبہ کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث پلے گراؤنڈ میں بھی کلاسز لی جا رہی تھیں۔
تاہم اگر باقی بلڈنگ بھی واپس مل جائے تو تدریسی سرگرمیاں بہتر طریقے سے جاری رکھی جا سکتی ہیں۔
مردان کالج میں منعقدہ ایک تقریب میں وائس چانسلر عبدالولی خان یونیورسٹی مردان بھی شریک تھے، جہاں عمارت کے 15 فیصد حصے کی باضابطہ واپسی عمل میں آئی۔
طلبہ نے وی سی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جون تک باقی حصہ بھی کالج کے حوالے کر دیا جائے گا۔
پروفیسرز اور طلبہ نے مردان کے منتخب نمائندوں سے بھی اپیل کی ہے کہ کالج کی مرمت اور ضروری سہولیات کے لیے فنڈز کی منظوری دی جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔





