واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ روس کی دو بڑی آئل کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی جائیں گی، اور یہ پابندیاں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو معقول رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے لیے بروقت اقدام ہیں۔
ٹرمپ نے نیٹو سیکریٹری جنرل کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پیوٹن سے ملاقات کرنا مناسب نہیں لگتا، اس لیے ملاقات منسوخ کردی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ہر ہفتے ہزاروں افراد ہلاک ہو رہے ہیں اور براہ راست بات چیت سے کسی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکتا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ یوکرین کے لیے امریکا کے میزائل استعمال نہیں ہو رہے بلکہ یہ یورپی ممالک کی جانب سے روس کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے وہ چینی صدر شی جن پنگ سے بات کریں گے، کیونکہ چین روسی صدر پر بڑا اثر رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے بھارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ روس سے تیل نہیں خریدے گا، اور امید ہے کہ روسی تیل پر پابندیاں طویل عرصے تک برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
نیٹو سیکریٹری جنرل نے کہا کہ روس پر مزید پابندیاں اس لیے لگائی جا رہی ہیں تاکہ پیوٹن پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے، اور اس وقت روس امن منصوبے کے مذاکرات کی میز پر نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کرکٹ شائقین کیلئے مایوس کن خبر، ایل پی ایل ملتوی، وجہ سامنے آ گئی
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ روس-یوکرین جنگ بائیڈن دور میں شروع ہوئی تھی، اور وہ اسے روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
مزید برآں منشیات کے خلاف کارروائیوں کے لیے بھی انہیں تمام اختیارات حاصل ہیں۔





