افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی مرحلہ وار بحالی کا طریقہ کار جاری

ڈائریکٹوریٹ ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی مرحلہ وار بحالی کا طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔

جاری نوٹیفکیشن کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کارگو آپریشن تین مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا، جن میں ابتدائی مرحلے میں چمن کے راستے ٹرانزٹ ٹریڈ کو بحال کیا جائے گا۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں وہ 9 گاڑیاں کلیئر کی جائیں گی جو فرینڈشپ گیٹ بند ہونے کے باعث واپس بھیجی گئی تھیں۔ دوسرے مرحلے میں این ایل سی سے واپس 74 گاڑیوں کا پراسیس کیا جائے۔

تیسرے مرحلے میں ہالٹنگ یارڈ میں کھڑی 217 گاڑیوں کو سرحد پار جانے کی اجازت دی جائے گی۔

واپسی پر تمام گاڑیوں کی نقل و حرکت کی سخت نگرانی کی جائے گی تاکہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے عمل کو شفاف اور محفوظ بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان سے سرحدی تجارت کی بندش، یومیہ نقصان ایک ارب سے متجاوز

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی تجارت کی بندش سے دوطرفہ کاروبار شدید متاثر ہو گیا ہے جس کے باعث کپاس، پیاز، ٹماٹر، انگور، خشک میوہ جات، کوئلہ اور دیگر سبزیوں کی درآمد بری طرح رک گئی ہے۔

 گزشتہ سال پاکستان نے افغانستان سے 225 ملین ڈالر مالیت کی کپاس، 92 ملین ڈالر کے پیاز، 43 ملین ڈالر کے ٹماٹر، 51 ملین ڈالر کے انگور، 17 ملین ڈالر کے تازہ پھل، 7 ملین ڈالر کے خشک میوہ جات، 5 ملین ڈالر کے بیج، 14 ملین ڈالر کے کھیرے اور 54 ملین ڈالر مالیت کی دیگر سبزیاں درآمد کی تھیں۔

رواں سال یکم جنوری سے 11 اکتوبر تک افغانستان سے 2 لاکھ 26 ہزار 540 میٹرک ٹن ٹماٹر جبکہ ایران سے 25 ہزار 961 میٹرک ٹن ٹماٹر درآمد کیے گئے۔

چیئرمین بارڈر ٹریڈ کونسل کے مطابق سرحدی بندش کا سب سے زیادہ اثر ٹماٹر کی سپلائی اور قیمتوں پر پڑا ہے۔ ان کے مطابق 12 اکتوبر سے سرحد بند ہونے کے بعد یومیہ نقصان ایک ارب 60 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر آنے کا خدشہ ہے۔

Scroll to Top