پاک افغان بات چیت کے باوجود دہشت گردوں کی دراندازی کا سلسلہ نہ تھم سکا

شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران فتنۃ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، جس میں 25 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 5 بہادر فوجی جان کی بازی ہار گئے۔

پاک فوج کے حکام نے کہا ہے کہ یہ واقعہ سرحدوں کے تحفظ کے لیے عزم اور قربانی کی عملی مثال ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جب قوم متحد ہو کر وطن کی سالمیت کی حفاظت کرتی ہے تو دشمن کے عزائم ناکام ہو جاتے ہیں۔

کارروائی اس وقت ہوئی جب استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صرف سفارتی الفاظ کافی نہیں، عملی اقدامات اور سرحدی نگرانی کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔

پاکستان نے دوحہ معاہدے کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن طالبان کی جانب سے کالعدم دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی اور دیگر عسکری گروپوں کو پاکستان میں کارروائیوں کے لیے استعمال جاری ہے۔

 اقوام متحدہ کی جانب سے جولائی 2024 کو رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروپ تسلیم نہیں کرتے اور ان کے آپسی تعلقات انتہائی قریبی ہیں اور افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کی امداد کا قرض ہے۔

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے 6,000 سے زائد جنگجو افغانستان میں موجود ہیں، جو پاکستان کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں۔

اسی لیے 2021 میں ٹی ٹی پی کو جب خیبر پختون خوا کے علاقوں میں انسٹال کرنے کی کوشش کی گئی تو عوامی سطح پر ان کے خلاف شدید نفرت اور غم و غصے نے عوامی تحریکوں کی صورت میں اپنا اظہارکیا۔

جس کی بنیاد پر ٹی ٹی پی اور ان کے آقاؤں کو منہ کی شکست کھانی پڑی، لیکن آج بھی یہی دہشت گرد گروپ پاکستان بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھارت کی پشت پناہی سے دوبارہ دہشت گردی کے واقعات کروانے میں مصروفِ عمل ہیں۔

پاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ خارجہ پالیسی اور طالبان کے اندرونی اختلافات خطے میں عدم اعتماد اور دہشت گردی کے خطرات کو بڑھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : حماس کے خلاف جنگ مغویوں کی واپسی تک ختم نہیں ہوگی، اسرائیلی آرمی چیف

ثالثی کا حقیقی مقصد صرف دستخط نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہونا چاہیے کہ طے شدہ شرائط پر مکمل عمل ہو اور پاکستان کے تحفظات کا احترام کیا جائے۔

سیکیورٹی اہلکاروں اور عوامی حمایت سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف بھرپور مؤثر ردعمل دینے کے لیے ہر وقت تیار ہے، اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے کسی سمجھوتے کو قبول نہیں کرے گا۔

افغانستان سچ میں امن چاہتا ہے تو اسے خود بھی داخلی سطح پر شفافیت، ایک وفاقی روئے کار اور غیر ریاستی عناصر کی سرکوبی کے لیے عملی قدم اٹھانا ہوں گے۔

ورنہ یہ خدشہ وجود میں رہے گا کہ مذاکرات کے پردے تلے ہونے والی منافقانہ پالیسیاں خطے کی خوش حالی اور بقاء کو دائمی خطرے میں ڈال دیں گی۔

حکمت عملی، شراکت داری اور علاقائی مفادات کے احترام کا راستہ امن، ترقی اور باہمی اعتماد کے قیام کی جانب لے جائے گا۔

Scroll to Top