اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے رہنما بیرسٹر عقیل ملک نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے بانی تحریک انصاف عمران خان کو پے رول یا شفٹ کرنے کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اور دہشتگردی کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ خیبرپختونخوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے اور اگر کابینہ کی تشکیل میں تاخیر ہوئی تو آرٹیکل 234 کا اطلاق ممکن ہے۔
عقیل ملک نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے کہا کہ جیل قوانین کے مطابق صرف فیملی ممبرز اور وکلا ملاقات کر سکتے ہیں۔
عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں 14 سال قید کی سزا ہوئی، جبکہ توشہ خانہ ون میں ان کی سزا معطل کی گئی۔ سپریم کورٹ نے 9 مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کو ضمانت دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا مختصر کابینہ کی تشکیل موخر، وجہ سامنے آگئی
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کو نہ پے رول کی پیشکش ہے اور نہ کسی جگہ منتقل کرنے کی۔
اگر عمران خان خود درخواست دیں گے تو جیل قوانین کے مطابق اس پر کارروائی کی جائے گی۔
بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ حکومت یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہم آپ کو پے رول پر رہا کر دیں گے، دونوں صورتوں میں درخواست بانی پی ٹی آئی کو خود دینی ہوگی۔





