طورخم تجارتی گزرگاہ دوطرفہ تجارت کیلئے 18ویں روز بھی بند

طورخم تجارتی گزرگاہ دوطرفہ تجارت کیلئے 18ویں روز بھی بند

پاک افغان دوطرفہ تجارت اور آمدورفت کے تمام اہم زمینی راستے مسلسل 18ویں روز بھی بند ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے تاجروں اور مقامی کاروباری طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق طورخم تجارتی گزرگاہ سمیت پاک افغان سرحد پر واقع بابِ دوستی گیٹ بھی 18ویں روز سے دوطرفہ تجارت کے لیے بند ہے۔ ایف آئی اے امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ بابِ دوستی گیٹ کے ذریعے روزانہ 4 سے 5 ہزار افغان باشندے اپنے وطن واپس جا رہے ہیں۔

اسی طرح جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ اور شمالی وزیرستان میں غلام خان بارڈر بھی مسلسل 18 دن سے بند ہیں، جب کہ خرلاچی سرحد پر بھی دوطرفہ تجارت اور پیدل آمدورفت مکمل طور پر معطل ہے۔

تجارتی ماہرین کے مطابق سرحدی راستوں کی بندش سے روزانہ لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ پھل، سبزیاں اور دیگر اشیائے خورونوش سرحدی گوداموں میں پھنس کر خراب ہو رہی ہیں۔

دوسری جانب حکومتی سطح پر پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی راستے کھولنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، تاہم تاحال کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

Scroll to Top