پاک افغان مذاکرات کا تیسرا دور کل ہوگا،وفد استنبول روانہ

وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی وفد افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے استنبول روانہ ہو چکا ہےاور مذاکرات کل سے شروع ہوں گے۔

آج پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امید ہے افغانستان دانشمندی سے کام لے گا اور خطے میں امن بحال ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا ایجنڈا صرف ایک نکتے پر مرکوز ہے، یعنی افغانستان اپنی سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔

جب خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ کیا مذاکرات میں پیش رفت کی امید ہے، تو انہوں نے کہا کہ مذاکرات صرف اسی صورت میں کیے جاتے ہیں جب پیش رفت کی توقع ہوورنہ یہ صرف وقت کا ضیاع ہو گا۔

واضح رہے کہ 25 اکتوبر کو استنبول میں پاکستانی اور افغان طالبان کے وفود کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز کئی دنوں کی سرحدی جھڑپوں کے بعد ہوا تھا، تاہم کابل سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے اسلام آباد کی تشویش برقرار رہی، جس کے باعث مذاکرات میں تعطل آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : حکومت کو 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے کتنے ارکان کی حمایت درکار؟

29 اکتوبر کو پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور پاکستانی وفد وطن واپس لوٹنے کی تیاری کر رہا ہےمگر ترکیہ اور قطر نے مذاکراتی عمل کو ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں دوبارہ بحال کرایا۔

بعد ازاں، مذاکرات کے نتیجے میں 3 نکاتی مفاہمت سامنے آئی تھی، جس میں جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق، قیام امن کے لیے نگرانی و توثیقی نظام کا قیام اور خلاف ورزیوں پر سزا کا طریقہ کار، اس نظام کی عملی تفصیلات دونوں فریقین کے سینئر نمائندے 6 نومبر کو استنبول میں ہونے والی شیڈول ملاقات میں طے کریں گے۔

Scroll to Top