خیبر پختونخوا کے تین اضلاع میں سیکیورٹی خدشات کے باعث 48 گھنٹے کےلیے کرفیو نافذ

نور علی 

خیبر پختونخوا کے تین اضلاع ٹانک، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر میں سیکیورٹی خدشات کے باعث 6 نومبر صبح 6 بجے سے 8 نومبر صبح 6 بجے تک 48 گھنٹے کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے تینوں اضلاع کے الگ الگ نوٹیفکیشنز جاری کر دیے ہیں۔

کرفیو کے دوران تمام تر نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد ہوگی، جب کہ تمام بازار، تجارتی مراکز اور عوامی آمد و رفت معطل رہے گی۔

کرفیو کے دوران ضلع ٹانک کے سب ڈویژن جنڈولہ کابازار مکمل طور پر بند رہے گا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ضلع ٹانک کے علاقے کوڑ قلعہ تا خرگئی، جنڈولہ، کوڑ قلعہ تا گرداوی سمیت متعدد راستوں پر آمد و رفت ممنوع قرار دی گئی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق جنوبی وزیرستان اپر میں کرفیو کے دوران کئی اہم راستوں پر آمد و رفت مکمل طور پر ممنوع قرار دی گئی ہے۔ ممنوع راستوں میں سراروغہ تا کوٹکئی، سپنکئی رغزئی تا نظر خیل، درگئی پل تا مدی جان، شین ورسک تا مولا خان سرائے تا چگملائی، اور سرویکئی تا مولا خان سرائے تا بروند شامل ہیں۔

اسی طرح جنوبی وزیرستان لوئر میں بھی کرفیو کے دوران تمام بازار اور مارکیٹس بند رہیں گی، اور عوام کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں وانا تیارزہ گیٹ تا کرب کوٹ، تنائی، عزیز آباد چوک تا درگئی پل اور شکئی تا انزر چینہ وانا راستے مکمل طور پر بند رہیں گے۔

ایمرجنسی کی صورت میں صرف پولیس یا سیکیورٹی فورسز کی اجازت سے شناختی کارڈ اور کاغذات جمع کروا کر محدود سفر کی اجازت ہوگی۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی گاڑیاں دیکھ کر اپنی گاڑی 100 میٹر فاصلے پر سڑک سے نیچے اتاریں۔

یہ بھی پڑھیں : پاک افغان مذاکرات کا تیسرا دور کل ہوگا،وفد استنبول روانہ

انتظامیہ کے مطابق ایمرجنسی کی صورت میں شناختی کارڈ جمع کروا کر فورسز کی اجازت سے سفر ممکن ہوگا۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

Scroll to Top