اسلام آباد: سینیئر سیاسی رہنما اور سینیٹر فیصل واوڈا نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔
ملاقات میں ملکی سیاست کے اہم معاملات اور مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور 27ویں آئینی ترمیم آسانی سے منظور ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو اعتماد میں لینا چاہیے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی جمہوری نظام کو متاثر نہیں ہونے دے گی اور اٹھارویں ترمیم ختم نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے افواج کی مضبوطی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ترامیم کی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ صرف زمین، سمندر اور فضا میں نہیں بلکہ سائبرجنگ، بیانیے کی جنگ اور معیشت کی جنگ بھی ہوتی ہے، اور افواج کی مضبوطی ملک کے دفاع کو بھی مضبوط کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں : آئینی ترامیم جیت یا ہار کا معاملہ نہیں، پارلیمان میں مثبت بحث جاری ہے، عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم جیسے اہم معاملات میں اتحادی جماعتوں کو ہمیشہ اعتماد میں لیا جاتا ہے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے بات چیت کی گئی ہے، جبکہ اس پر حتمی فیصلہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ترمیم کے کسی پہلو میں جیت یا ہار کا سوال نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس پر پارلیمان میں مثبت بحث جاری ہے۔
ان کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے تحت عدالتی نظام میں بہتری اور شفافیت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد قائم کیے گئے آئینی بینچ سے عام شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں بہت سہولت ملی، اسی طرز پر نئے اقدامات سے عدلیہ میں مزید بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ ججز کے تقرر اور تبادلوں کا اختیار جوڈیشل کمیشن کے پاس ہونا چاہیے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔





