آئینی ترامیم جیت یا ہار کا معاملہ نہیں، پارلیمان میں مثبت بحث جاری ہے، عطا تارڑ

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم جیسے اہم معاملات میں اتحادی جماعتوں کو ہمیشہ اعتماد میں لیا جاتا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے بات چیت کی گئی ہے، جبکہ اس پر حتمی فیصلہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ترمیم کے کسی پہلو میں جیت یا ہار کا سوال نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس پر پارلیمان میں مثبت بحث جاری ہے۔

ان کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے تحت عدالتی نظام میں بہتری اور شفافیت لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد قائم کیے گئے آئینی بینچ سے عام شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں بہت سہولت ملی، اسی طرز پر نئے اقدامات سے عدلیہ میں مزید بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ ججز کے تقرر اور تبادلوں کا اختیار جوڈیشل کمیشن کے پاس ہونا چاہیے تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔

عطا تارڑ نے تعلیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ پورے ملک میں یکساں تعلیمی نصاب نافذ کیا جائے، کیونکہ مختلف صوبوں میں الگ الگ نصاب کے بجائے ایک قومی نصاب بہتر نتائج دے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کے تین اضلاع میں سیکیورٹی خدشات کے باعث 48 گھنٹے کےلیے کرفیو نافذ

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ فی الحال پارلیمان کے باہر کسی سطح پر بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم ایوان میں بحث کے دوران تمام فریقین کو اظہارِ خیال کا موقع دیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے، اور 27ویں آئینی ترمیم کا آزاد کشمیر کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ نواز شریف پارٹی کے قائد ہیں، اور وزیراعظم و وزیراعلیٰ پنجاب سمیت پوری جماعت انہی کی قیادت میں متحد ہے۔

Scroll to Top