ضلعی بونیر کی تحصیل گاگرہ کے کلپانی علاقے میں جائیداد کے تنازعے پر دو فریقین کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوا، جس کے نتیجے میں 9 افراد زخمی ہوگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق اطلاع ملتے ہی فوری طور پر میڈیکل ٹیم جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈگر منتقل کیا گیا۔
ترجمان ریسکیو ضلع بونیر کے مطابق زخمی ہونے والوں میں عادل شاہ، ایان شاہ، عابد شاہ، مصطفی، نجیب، صابر، وحید شاہ اور اخیر شاہ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ترمیم میں صوبوں کے اختیارات میں کمی کی بات کی گئی تو مخالفت کریں گے، مولانافضل الرحمان
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کھینچ تان کر دو تہائی اکثریت حاصل کی جا رہی ہےجس کا نقصان ہوگا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آج ہماری پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں 27ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر بات ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے 27ویں ترمیم کا کوئی مسودہ تاحال سامنے نہیں آیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں حکومت 35 شقوں سے دستبردار ہوئی تھی۔ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اگر 27ویں ترمیم میں دوبارہ وہی شقیں شامل کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم بھرپور مخالفت کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبوں کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم مخالفت کریں گے۔ صوبوں کے حقوق پر ڈاکا نہیں ڈالنے دیں گے۔ صوبوں کے حقوق میں اضافہ کیا جاتا ہے کمی نہیں، ہم صوبوں کو مزید بااختیار بنانے کے حامی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے وقت کوئی دو فریق ایک دوسرے کے مخالف نہیں تھے، تمام جماعتیں متفق تھیں۔ ماضی میں جتنی بھی ترامیم ہوئیں، ان سب کا ایک ایک کر کے جائزہ لیا گیا اور پارلیمنٹ نے انہیں متفقہ طور پر منظور کیا۔ ہر پارٹی نے اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ ہمیں کہا گیا کہ تین دن میں ترمیم منظور کر لیں، مگر ایسا نہیں ہوا ، ایک مہینہ لگا۔ اب جب 27ویں ترمیم سامنے آئے گی تو اس کا حجم دیکھ کر ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ اسے کب پاس کیا جا سکتا ہے۔





