27 ویں آئینی ترمیم کا بل آج سینیٹ سے منظور ہوگا

27 ویں آئینی ترمیم کا بل آج سینیٹ سے منظور ہوگا

تاریخی مرحلہ!آج سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم پر غور، آئینی عدالتوں کے قیام اور دیگر ترامیم پر حتمی فیصلہ ہوگا۔

27 ویں آئینی ترمیم کا بل آج سینیٹ سے منظور کیا جائے گا، جس کے بعد اسے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ سینیٹ کا اجلاس آج صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے اور اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ترمیمی بل ایوان میں پیش کریں گے جبکہ سینیٹر فاروق ایچ نائیک قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ پیش کریں گے۔

ذرائع کے مطابق، گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف نے مجوزہ آئینی ترمیم کا مکمل مسودہ منظور کرتے ہوئے شق وار 49 ترامیم کی منظوری دی تھی۔ مجوزہ ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کے عہدے رکھنے والے افراد تاحیات یونیفارم میں رہ سکیں گے، جبکہ آئینی عدالتوں کے قیام سے متعلق شق کی بھی منظوری دی گئی ہے۔

کمیٹی نے زیر التوا مقدمات کے فیصلے کی مدت 6 ماہ سے بڑھا کر ایک سال کرنے کی ترمیم بھی منظور کر لی ہے، جبکہ ایک سال تک مقدمے کی پیروی نہ ہونے پر اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحادی جماعتوں کی تجاویز پر حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے، جن میں خیبر پختونخوا کے نام کی تبدیلی (اے این پی کی جانب سے) اور بلوچستان اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی تجاویز شامل ہیں۔ حکومت نے اتحادی جماعتوں کو ان کے تحفظات کے حل کی یقین دہانی کرا دی ہے اور بلوچستان میں اسمبلی کی نشستیں بڑھانے کی تجویز پر بھی وقت مانگ لیا ہے۔

دونوں ترامیم پر مزید غور کے بعد آج حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں پی ٹی آئی، جے یو آئی، پی کے میپ اور ایم ڈبلیو ایم نے کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

خیال رہے کہ سینیٹ سے منظوری کے بعد ستائیسویں آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جہاں آج شام 4 بجے اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

Scroll to Top