نئی دہلی دھماکا: عینی شاہد کے بیان نے مودی حکومت کے بیانیے کو بے نقاب کر دیا

نئی دہلی: مودی حکومت کی جانب سے ہمیشہ کی طرح حقیقت کو نظر انداز کر کے اپنی کہانی پیش کی گئی، تاہم دھماکے کے عینی شاہد نے اصل صورت حال سامنے لا دی۔

نئی دہلی میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ہونے والے دھماکے کے دوران گاڑی کے اندر چار جلی ہوئی لاشیں پائی گئی ہیں، جبکہ دو افراد باہر ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

عینی شاہد دھرمندر نے بتایا کہ متاثرہ گاڑی سفید رنگ کی ماروتی تھی اور اس کی نمبر پلیٹ محمد ندیم، ہریانہ کی تھی۔

دھرمندر کے مطابق گاڑی کی نوعیت اور مالک کے حوالے سے بھارتی میڈیا اور مرکزی حکومت کے بیانات میں تضاد پایا گیا۔

گواہ کا کہنا ہے کہ گاڑی ماروتی تھی، لیکن امیت شاہ اور گودی میڈیا اسے ہونڈائی قرار دے رہے ہیں۔

اسی طرح گاڑی کے مالک کا نام ندیم تھا جبکہ RAW ٹرول اسے سلمان اور گودی میڈیا اسے طارق قرار دے رہا ہے۔

عینی شاہد کے بیان نے مودی سرکار کے مبینہ جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دھماکے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 24 زخمی ہوئے ہیں۔ دہلی فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دھماکے کے بعد چھ گاڑیوں اور تین رکشوں میں آگ لگ گئی۔

یہ واقعہ ایک بار پھر سوالات کو جنم دے رہا ہے کہ مرکزی حکومت اور میڈیا نے عوام کے سامنے حقائق کو چھپایا یا مسخ کیا، جبکہ عینی شاہد کے بیانات حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایک اور فالس فلیگ: نئی دہلی میں دھماکہ، بھارتی سہولت کار پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے لگے

بھارت کے دارلحکومت نئی دہلی کےعلاقے لال قلعے کےقریب ہونے والے دھماکے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

زرائع کے مطابق یہ واقعہ ایک مبینہ فالس فلیگ آپریشن تھا، جس کے بعد بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا، بالکل اسی طرح جیسے پہلگام کے واقعے میں ہوا تھا۔

بھارتی حکام پر سوشل میڈیا پر الزام تراشی کی جارہی ہے کہ انہوں نے اس دھماکے کو پاکستان پر ڈال کر اپنی ناکامیوں اور مداخلت سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔

اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا ہینڈلرز نے تحقیقات اور تصدیق کے بغیر پاکستان کو ذمہ دار قرار دیا حالانکہ سچے حقائق سامنے نہیں آئے تھے۔

بھارتی ٹی وی ریپبلک کے مطابق مختلف ذرائع سے تصدیق ہوئی ہے کہ یہ دھماکہ دراصلCNG سلنڈر کے پھٹنے کی وجہ سے ہواجس میںشہریوں کو نقصان پہنچا۔ واقعہ نئی دہلی کے مصروف علاقے میں پیش آیا۔

Scroll to Top