سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو اہم اور سینئر ترین ججز جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
دونوں ججز نے اپنے استعفے صدرِ مملکت کو ارسال کر دیے ہیں، دونوں ججز ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے فعال اور بااثر ارکان میں شمار کیے جاتے تھے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئینی ترمیم کے ذریعے جمہوریت کی روح پر بھی کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بطور جج انہوں نے ہمیشہ آئین اور قانون کی سربلندی کے لیے فیصلے کیے، مگر اب حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب جسٹس اطہر من اللہ نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے بھی حالیہ آئینی ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یاد رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے حال ہی میں فل کورٹ اجلاس طلب کیا تھا، جو کل نمازِ جمعہ کے بعد منعقد ہوگا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق امور زیر غور آئیں گے،۔
یہ اجلاس انہی تین ججز جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس صلاح الدین پنہور کے تحریری خطوط کے بعد بلایا گیا تھا، جنہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم پر فل کورٹ مشاورت کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس آف پاکستان نے فل کورٹ اجلاس بلا لیا
ذرائع کے مطابق فل کورٹ اجلاس میں ترمیم کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جائے گا، جبکہ ججز اپنی آئینی و قانونی آرا پیش کریں گے۔





