قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی ہے،نئے آرمی ایکٹ 2025 کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کی مدتِ ملازمت پانچ سال ہوگی۔
یہ قانون سازی 27ویں آئینی ترمیم کے بعد کی گئی، جس کے تحت پاکستان میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کو باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق آرمی چیف سید عاصم منیر کا بطور چیف آف ڈیفنس فورسز نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، جس کے تحت ان کی مدتِ ملازمت دوبارہ سے شروع ہو گی۔
مجوزہ ایکٹ کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ کے تمام آپریشنل و اسٹریٹیجک امور کی ری اسٹرکچرنگ اور انضمام کا اختیار حاصل ہوگا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے آرٹیکل 243 میں ترمیم کے تناظر میں تینوں مسلح افواج کے سروسز ایکٹس سمیت 6 قوانین میں ترامیم کی منظوری دی تھی۔
ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔
اس کے ساتھ ساتھ کمانڈر آف دی نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کے عہدے کے قیام کے لیے بھی علیحدہ قانون لانے کی منظوری دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے متعلق نئی قانون سازی کے لیے بل لانے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
کابینہ کی منظوری کے بعد تمام بل قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے، جنہیں منظوری کے بعد سینیٹ میں بھی بھیجا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی
واضح رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا ہے۔ آئینی ترمیم کے ذریعے اس نئے عسکری ڈھانچے کو آئینی حیثیت دی گئی ہے، جس کا مقصد دفاعی اداروں میں بہتر ہم آہنگی اور قومی سلامتی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔





