جسٹس امین الدین پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس مقرر

جسٹس امین الدین کو پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا ہے اور وہ کل صبح 10 بجے ایوانِ صدر میں حلف اٹھائیں گے۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری حلف لیں گے، ذرائع کے مطابق جسٹس امین الدین آئینی عدالت کی سربراہی کے لیے فیورٹ تھے اور سپریم کورٹ کے ججز کو بھی اس موقع پر عشائیہ میں مدعو کیا گیا ہے۔

وفاقی آئینی عدالت میں امکان ہے کہ جسٹس عامر فاروق، جسٹس باقر نجفی، جسٹس کے کے آغا، جسٹس روزی خان، جسٹس حسن رضوی اور جسٹس شکیل احمد کو شامل کیا جائے گا۔

ایوانِ صدر میں چیف جسٹس کے حلف کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور وزیراعظم، سپیکر، چیئرمین سینیٹ اور وفاقی وزراء سمیت دیگر اہم شخصیات کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

جسٹس امین الدین کا ریٹائرمنٹ کا وقت 30 نومبر کو تھا تاہم اب وہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی

ادھر سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ صدر مملکت کو بھیجتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم آئین اور عدلیہ پر سنگین حملہ ہے، جس نے عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ صاف ضمیر کے ساتھ جا رہے ہیں، کوئی پچھتاوا نہیں اور انصاف عام آدمی سے دور ہو گیا ہے، اسی لیے انہوں نے احتجاجاً عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جو آئین کے تحفظ کا حلف انہوں نے اٹھایا تھا، وہ اب باقی نہیں رہا،انہوں نے مزید کہا کہ وہ باضابطہ طور پر استعفیٰ دے رہے ہیں اور 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق اپنا خط چیف جسٹس آف پاکستان کو پہلے ہی لکھ چکے ہیں۔

Scroll to Top