پی ٹی آئی دور حکومت میں اہم فیصلے بشریٰ بی بی کرتی تھیں، عطا تارڑ

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا تارڑنے کہا ہے کہ پی ٹی آئی دور میں اہم فیصلے بشریٰ بی بی کے کہنے پر کیے جاتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور حکومت میں اہم فیصلے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کہنے پر کیے جاتے تھے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے برطانوی جریدے دی اکنامسٹ کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ بھی بشریٰ بی بی کی سفارش پر کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان کی سیاست جھوٹ، منافقت اور الزام تراشی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عمران خان نے کتنے پروجیکٹ مکمل کیے، یہ بتائیں۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ عمران خان نے سابق وزیر اعظم شہباز شریف پر 10 ارب روپے کی پیشکش کا جھوٹا الزام لگایا، جس پر شہباز شریف نے 2017 میں ہتک عزت کا کیس دائر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے اور من گھڑت الزامات کی بنیاد پر سیاست کی گئی، جس سے شہباز شریف کی ساکھ متاثر ہوئی اور ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا، جو اخبارات میں بھی شائع ہوا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ لندن کی عدالت نے بھی اس جھوٹے الزام کے خلاف فیصلہ دیا اور اس شخص کو ہرجانہ ادا کرنا پڑا، ساتھ ہی عدالت کے اخراجات بھی ادا کیے گئے۔

عطا تارڑ نے پارلیمان کی بالادستی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا بالادست ادارہ ہے جسے آئین اور قانون سازی کا حق حاصل ہے، اور جو بھی ترامیم ہو رہی ہیں یا آئندہ ہوں گی، وہ مکمل طور پر میرٹ پر ہوں گی۔

Scroll to Top