مونس الٰہی کے ریڈ وارنٹ معاملے میں انٹرپول کا حتمی فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسپین میں مقیم رہنما مونس الٰہی کے خلاف انٹرپول وارنٹ کا معاملہ ختم ہو گیا اور انہیں کلین چیٹ دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹرپول نے مونس الٰہی کی گرفتاری کے لیے دی گئی درخواست کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر نمٹا دیا۔

حکومت پاکستان نے انٹرپول سے تعاون کی درخواست کی تھی جس پر معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ سنایا گیا۔

سیکریٹری جنرل انٹرپول نے بتایا کہ اس معاملے پر دونوں فریقوں کی رائے سنی گئی اور یہ معاملہ انٹرپول کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔

انٹرنیشنل کرمنل پولیس آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے فیصلے کا باضابطہ خط جاری کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مونس الٰہی طویل عرصے سے بیرون ملک مقیم ہیں، اور اب کسی ایئرپورٹ یا دیگر مقام پر ان کی گرفتاری ممکن نہیں۔

پاکستان میں ان کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں اور حکومت ان مقدمات کے سلسلے میں انٹرپول کے تعاون کی خواہاں رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اسد قیصر، شبلی فراز، عمر ایوب اور علی نواز اعوان سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

عدالتی حکم کے مطابق تمام ملزمان کو 11 نومبر کو گرفتار کرکے عدالت کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ وارنٹ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے جاری کیے۔

مذکورہ پی ٹی آئی رہنما تھانہ سی ٹی ڈی میں درج ایک مقدمے میں نامزد ہیں، جس میں ان پر دہشت گردی، عوام کو اشتعال دلانے اور امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

Scroll to Top