سوئٹزرلینڈ نے اپنے ملک پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ بھاری ٹیرف میں کمی کرانے کے لیے ایک منفرد سفارتی مہم کا آغاز کیا ہے۔
سوئس صنعت کے بڑے سرمایہ کاروں اور معروف کمپنیوں کے سربراہان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد واشنگٹن پہنچا جس نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران قیمتی تحائف اور بھرپور تعریفوں کے ذریعے تعلقات کو نرم کرنے کی کوشش کی۔
ملاقات میں ٹرمپ کو ایک خصوصی رولیکس ڈیسک ٹاپ گھڑی پیش کی گئی جو انتہائی مہنگی اور منفرد انداز کی حامل تھی۔
وفد نے انہیں ایک کلو وزنی ذاتی نوعیت کی سنہری اینٹ بھی دی جس پر خصوصی کندہ کاری کی گئی تھی، تحائف کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی بے حد تعریف کی گئی جسے مبصرین نے سوئٹزرلینڈ کی سوئس پریسیژن سفارتکاری قرار دیا ہے اور سمجھا جا رہا ہے کہ یہی حکمتِ عملی سوئس وفد کا اصل ہدف یعنی ٹیرف میں کمی، حاصل کرنے کا ذریعہ تھی۔
ملاقات میں رولیکس، پارٹنرز گروپ، مرکیوریا، ریچے موںٹ اور ایم کے ایس جیسی بڑی کمپنیوں کے سربراہان شامل تھے۔
وفد نے صدر ٹرمپ کو یقین دہانی کرائی کہ اگر امریکا سوئس مصنوعات پر عائد 39 فیصد ٹیرف میں کمی کرتا ہے تو سوئٹزرلینڈ امریکہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران باہمی تجارتی تعاون اور مستقبل کے سرمایہ کاری منصوبوں پر تفصیل سے بات ہوئی، جن میں امریکا میں سونے کی پروسیسنگ، انفراسٹرکچر منصوبوں اور مختلف صنعتوں میں سرمایہ کاری شامل ہے۔
یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف کو 39 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد تک لانے پر ابتدائی سطح کا اتفاق ہو چکا ہے جسے ممکنہ تجارتی بریک تھرو قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم اس پورے عمل کو چند حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا بھی ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی تحائف سے متاثر ہونے کی شہرت اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ان کے قریبی روابط اس طرح کے اقدامات کو کارپوریٹ لابی کا تاثر دیتے ہیں جو شفاف سفارتی اصولوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غلط ایڈیٹنگ مہنگی پڑ گئی، ٹرمپ کا بی بی سی پر مقدمے کا اعلان
اس کے باوجود یہ امید کی جا رہی ہے کہ سوئس وفد کی کوششیں رنگ لا سکتی ہیں، سوئٹزرلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں وہ امریکہ میں تقریباً 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے جس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوسکتے ہیں اور ایک نئے تجارتی معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔





