پی ٹی آئی حالت انتشار میں، بانی سے بدنیتی پر مبنی فیصلے کروائے جاتے ہیں، شیر افضل

رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی انتشار کی حالت میں ہے، بانی پی ٹی آئی سے بدنیتی پر مبنی فیصلے کروائے جاتے ہیں ۔

رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی حالات کے بارے میں تشویشناک انکشافات کیے ہیں اور کہا ہے کہ پارٹی اس وقت انتشار کی حالت میں ہے۔ مروت کے مطابق، پی ٹی آئی کے بانی سے بدنیتی پر مبنی فیصلے کروائے جا رہے ہیں، جس سے پارٹی کی سیاسی سمت متاثر ہو رہی ہے۔

شیرافضل مروت نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے بانی پر بشریٰ بی بی کا گہرا اثر ہے، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان کے حکومتی فیصلوں پر تصوف اور روحانی اثرات بھی غالب تھے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی برطانوی جریدے کے خلاف ایک مضبوط کیس بنا سکتی ہے، لیکن اندرونی کشیدگی اس عمل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ علی امین گنڈا پور، محمود خان، عثمان بزدار اور سہیل آفریدی جیسے اہم عہدے دار بھی بشریٰ بی بی کے فیصلوں کے زیر اثر آئے ہیں۔ علی امین گنڈا پور کو ہٹانے کا فیصلہ بھی انہی کا تھا، اور اس حوالے سے بیرسٹر گوہر کی کوئی رائے شامل نہیں کی گئی۔

شیرافضل مروت نے اپنی ذاتی مشکلات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہیں پارٹی سے تین بار نکال دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب وہ جس سے چاہیں ملاقات کر سکتے ہیں، اور نواز شریف نے ان سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی میں سب سے زیادہ طاقت ور عنصر ایک دوسرے کے کان بھرتے رہنے کی عادت ہے، جس کے باعث سہیل آفریدی کے لیے احتجاجی تحریک چلانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

یہ بیانات پی ٹی آئی کے اندر جاری کشیدگی اور پارٹی کے اندرونی تنازعات کی تصویر واضح کرتے ہیں، اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پارٹی کے بعض اہم فیصلے ذاتی اثرات اور بدنیتی کے زیر اثر لیے جا رہے ہیں۔

Scroll to Top