اسلام آباد: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے غزہ میں تنازع ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
عاصم افتخار نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے اقدامات قابل تعریف ہیں اور امن معاہدے سے غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ ہوا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا کیونکہ ہمارا بنیادی مقصد غزہ میں معصوم فلسطینیوں کے قتل عام کو روکنا اور غزہ سے اسرائیلی فورسز کا مکمل انخلا یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے غزہ میں امن کی امید پیدا ہوئی ہے، اور مذاکرات میں پاکستان نے عرب ممالک کے پروپوزل کی حمایت کے ساتھ اپنی تجاویز بھی شامل کیں۔
عاصم افتخار نے مزید کہا کہ فلسطینی ریاست 1967 کی سرحدوں کے مطابق ہونی چاہیے اور اس کا دارالحکومت القدس ہونا لازمی ہے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور کر لی، جس کے حق میں 14 ووٹ آئے، مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا، جبکہ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
امریکی مندوب نے اس موقع پر پاکستان، مصر، قطر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور انڈونیشیا کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ غزہ کے استحکام کے لیے اقدامات اہم ہیں، آج تاریخی اور تعمیری قرارداد منظور ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں : سلامتی کونسل نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور کر دی
دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور کر دی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔
قرارداد کے حق میں 14 ووٹ دیے گئے جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا۔ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
امریکی مندوب نے سلامتی کونسل میں پاکستان، مصر، قطر، اردن، سعودی عرب، یو اے ای، ترکی اور انڈونیشیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب نے مل کر صورتحال کی سنگینی کو سمجھا اور اقدامات کیے۔





