پولیس نے بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کو حراست میں لے لیا

شیراز احمد شیرازی

راولپنڈی: اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور اور فیکٹری ناکوں پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما علیمہ خان کے دھرنے کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

اطلاعات کے مطابق علیمہ خان نے اڈیالہ روڈ پر دھرنا ختم کرنے سے انکار کیا، جس کے بعد پولیس نے خواتین اہلکاروں کی نفری طلب کی اور دھرنے میں شریک کارکنوں کو ہٹایا۔

پولیس نے 8 سے 10 کارکنان کو تحویل میں لے کر قیدی وین میں منتقل کیا، جبکہ علیمہ خان، عظمی خان اور نورین خان کو بھی حراست میں لیا گیا۔

دھرنے کے دوران نورین نیازی کی طبیعت خراب ہو گئی تھی اور بجلی بند ہونے کے باعث فیکٹری ناکے کے ارد گرد مکمل اندھیرا چھا گیا تھا۔

علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم نے ہمیشہ شرافت سے کام لیا، مگر آج جو سلوک ہمارے ساتھ ہوا، وہ ناقابل برداشت ہے۔ خواتین پولیس اہلکار ہمیں سڑکوں پر گھسیٹ رہی تھیں۔

پولیس نے دھرنے کے شرکا کو راستہ خالی کرنے کی متعدد درخواستیں کیں، تاہم مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پولیس نے پانی کے چھڑکاؤ کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے دھرنا ختم کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں : بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں رکاوٹ، سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی

اس دوران رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک اور خیبرپختونخوا کی صوبائی وزیر مینا آفریدی کو بھی حراست میں لیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار شدگان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور اڈیالہ جیل جانے والے راستے بند ہیں، جس کے باعث عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی ) کارکنوں کی بڑی تعداد دھرنے میں شریک تھی، اور واقعہ ملک کے سیاسی منظرنامے میں کشیدگی کو مزید بڑھا گیا ہے۔

Scroll to Top