فیصل آباد میں گزشتہ روز پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیر اہتمام نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی (نیاب) میں ارنڈ اور تل کی کاشت کے حوالے سے قومی فیلڈ ڈے کا انعقاد کیا گیا۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر شکیل عباس روفی، ممبر سائنس، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال سے ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کمیشن کے چار زرعی تحقیقی مراکز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ مراکز ملک میں فوڈ سیکیورٹی اور زرعی پیداوار کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے صحت کے شعبے میں کمیشن کے کردار کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کمیشن کے 20 کینسر ہسپتال ملک میں کینسر کے 80 فیصد مریضوں کی تشخیص اور علاج کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔
اسی طرح ریسرچ اور تربیت کے شعبوں میں مختلف ادارے جیسے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز۔ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر پاور انجینئرنگ اور چیسنپ سینٹر فار نیوکلیئر ٹریننگ اپنی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے 6 نیوکلیئر پاور پلانٹس کے ذریعے 3530 میگاواٹ ماحول دوست اور قابل بھروسہ توانائی کی فراہمی پر بھی روشنی ڈالی۔
ممبر سائنس نے کہا کہ دیانتداری اور معیاری پیداوار ملک کی ترقی کے لیے لازمی ہیں اور کسانوں کو نیاب جیسے تحقیقی اداروں کی مدد سے جدید زرعی طریقے اپنانے چاہئیں، انہوں نے دودھ کی پیداوار میں نقصان دہ سٹیرائیڈز کے استعمال اور زرعی اجناس میں ملاوٹ سے پرہیز کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
پروفیسر ڈاکٹر ایم یوسف سلیم، ڈی جی ایگری اینڈ بائیوٹیک، نے نیاب کو قومی تقریب کے انعقاد پر مبارکباد دی۔

ڈاکٹر عظمیٰ مقبول، ڈائریکٹر نیاب، نے فیلڈ ڈے کے مقصد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے تفصیلات پیش کیں جبکہ ڈاکٹر محمود الحسن نے پروگرام پر تفصیلی پریزنٹیشن دی، ڈاکٹر ایوب خان، نیشنل پروجیکٹ ڈائریکٹر، پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ، نے بھی خطاب کیا۔
تقریب میں مختلف صوبوں سے ترقی پسند کسان، سائنسدان، صنعتکار، بیج کمپنیاں اور یونیورسٹی فیکلٹی ممبران نے شرکت کی، شرکاء نے نیاب گولڈ، سپاینلیس اور کیسٹر 2023 کی اقسام کا فیلڈ وزٹ بھی کیا جو کم از کم پختگی کی مدت کے ساتھ زیادہ پیداوار دینے والی ہیں۔
فیلڈ ڈے کے اختتام پر کیسٹر بین اور تل کے پری بیسک بیج ترقی پسند کسانوں میں تقسیم کیے گئے، ارنڈ بنیادی طور پر تیل نکالنے اور بائیو فیول کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ تل کی برآمدی اور تیل کی پیداوار کی وجہ سے اس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔





