تھائی لینڈ میں ہونے والے مس یونیورس کے فائنل میں میکسیکو کی فاطمہ بوش نے تاج اپنے نام کر لیا۔
تھائی لینڈ میں منعقدہ مس یونیورس مقابلے کے رنگا رنگ فائنل میں اس سال کی ملکۂ حسن کا تاج میکسیکو کی 25 سالہ فاطمہ بوش کے سر سجا جنہوں نے دنیا بھر کی 120 حسیناؤں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔

فاطمہ بوش اس وقت مداحوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بن گئیں جب لائیو سٹریمڈ میٹنگ کے دوران تھائی ایونٹ ڈائریکٹر نے انہیں سرِعام جھاڑ پلا دی تھی۔
واقعے کے بعد کئی شریک حسیناؤں نے احتجاجاً واک آؤٹ بھی کیا جس کے بعد فاطمہ کے لیے عالمی ہمدردی اور حمایت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
انسانیت دوست سرگرمیوں اور رضاکارانہ خدمات کے باعث شہرت رکھنے والی فاطمہ کو بنکاک میں گزشتہ سال کی فاتح، ڈنمارک کی وکٹوریا کیئر تھیلوِگ نے تاج پہنایا۔
تھائی لینڈ کی پراوینار سنگھ رنر اپ رہیں جبکہ وینزویلا کی اسٹیفنی اباسالی، فلپائن کی آتھیسا مانیلو اور آئیوری کوسٹ کی اولیویا یاسے بھی ٹاپ 5 میں شامل رہیں۔
ہر سال دنیا بھر کے لاکھوں ناظرین اس مقابلے کو دیکھتے ہیں، ہر ملک کی نمائندہ اپنے ملک کی نمایاں شخصیات کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے جو مس یونیورس آرگنائزیشن سے باضابطہ لائسنس حاصل کرتی ہیں۔
تھائی لینڈ اس بار میزبان ملک تھا جو عالمی فیشن انڈسٹری میں ایک مضبوط اور منافع بخش مقام رکھتا ہے۔
اس بار 120 ممالک کی نمائندہ حسیناؤں نے حصہ لیا، فلسطین کی پہلی بار نمائندگی کرنے والی ندین ایوب ٹاپ 30 سیمی فائنلسٹ تک پہنچ کر مقابلے سے باہر ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: والدین ہو جائیں ہوشیار، کم عمر بچوں کا سوشل میڈیا استعمال اب مہنگا پڑے گا
فائنل کی میزبانی امریکی کامیڈین سٹیو برائن نے کی جبکہ شو کا آغاز تھائی گلوکار جیف سیٹر کی پرفارمنس سے ہوا۔
حتمی مرحلے میں حسیناؤں سے عالمی مسائل اور خواتین کے بااختیار بنانے سے متعلق سوالات کیے گئے جن میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر زیرِ بحث لائے جانے والے موضوعات بھی شامل تھے۔
تاج ملنے کے بعد اپنے خطاب میں فاطمہ نے کہا اپنی اصلیت کی طاقت پر یقین رکھیں، آپ کے خواب اور آپ کا دل دونوں اہم ہیں، کبھی کسی کو یہ اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کو آپ کی قدر پر شک کرنے پر مجبور کرے۔





