سہ فریقی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے ایک اہم میچ میں سری لنکا نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے زمبابوے کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی۔
راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس مقابلے میں سری لنکا کے اوپنر پاتھم نسانکا نے فیصلہ کن اننگز کھیل کر ٹیم کی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا۔
زمبابوے نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی اور مقررہ اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 146 رنز اسکور کیے۔ برائن بنیٹ 34، سکندر رضا 37 اور ریان برل 37 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ سری لنکا کی جانب سے ورندا ہسارنگا اور مہیش تھکشانا نے دو، دو کھلاڑیوں کو پویلین بھیجا۔
ہدف کے تعاقب میں سری لنکن بیٹنگ لائن نے مضبوط آغاز کیا اور زمبابوین بولرز کے خلاف بھرپور جارحیت کا مظاہرہ کیا۔ پاتھم نسانکا نے صرف 58 گیندوں پر 4 چھکوں اور 11 چوکوں کی مدد سے 98 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلتے ہوئے زمبابوے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
کمل مشرا 12 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ کوشل مینڈس 25 رنز کے ساتھ نسانکا کا ساتھ نبھاتے ہوئے ناٹ آؤٹ رہے۔ سری لنکا نے مطلوبہ ہدف محض 16.2 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
سیریز میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے سری لنکا کو اگلے میچ میں پاکستان کا چیلنج درپیش ہوگا۔ فائنل تک رسائی کے لیے سری لنکا کے لیے یہ میچ جیتنا بے حد ضروری ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں : ویسٹ انڈیز کے کپتان نے انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا
ویسٹ انڈیز کے کپتان شائی ہوپ نے نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے ون ڈے میچ میں 109 رنز کی ناقابل شکست سنچری اسکور کر کے انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔
اب شائی ہوپ وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے دنیا کی تمام 11 فل ممبر ٹیموں کے علاوہ نیدرلینڈز اور نیپال کے خلاف بھی سنچریاں بنائی ہیں۔
اس کارنامے کے نتیجے میں شائی ہوپ نے کرکٹ کی تاریخ میں ایک منفرد مقام حاصل کر لیا، کیونکہ انہوں نے مجموعی طور پر 13 مختلف ٹیموں کے خلاف انٹرنیشنل سنچریاں بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔
یہ ریکارڈ شائی ہوپ نے سابق ویسٹ انڈین اسٹار کرس گیل اور سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے حاصل کیا، جو 12 مختلف ٹیموں کے خلاف سنچریاں بنانے تک محدود رہے۔
شائی ہوپ کی یہ کامیابی ان کی مستقل مزاجی اور اعلیٰ کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے، اور انہیں دنیا کے بہترین ون ڈے بلے بازوں میں شامل کر دیتی ہے۔
اس سنچری نے نہ صرف ان کی انفرادی کامیابی کو اجاگر کیا بلکہ ویسٹ انڈیز کے لیے بھی مضبوط جیت کی بنیاد رکھی، اور یہ ان کے کیریئر کی یادگار اننگز میں سے ایک بن گئی ہے۔
ان کی یہ کارکردگی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ محنت اور لگن سے کھیل میں عظیم مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔





