تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سیکرٹری جنرل اسد قیصر نے کہا ہےکہ خیبر پختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی، جنگوں اور ریاستی بے توجہی کا شکار رہا ہے۔
صوابی کے علاقے ٹوپی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےاسد قیصر نے کہا کہ افغان جنگ نے ہمارے صوبے کو شدید متاثر کیا، یہاں کلاشنکوف کلچر پروان چڑھا، معیشت تباہ ہوئی اور آج تک عوام اس کے نقصانات بھگت رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ ہزاروں پولیس اور فوج کے جوان قربان ہوئے جبکہ کاروبار اور گھر اجڑ گئے۔
یہ بھی پڑھیں : ہری پورضمنی انتخابات ،تیمور سلیم جھگڑا نے بڑا دعوی کرلیا
انہوں نے کہا کہ پشاور کا تاجر لاہور اور کراچی کے تاجروں کا مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ طویل عرصہ تک یہاں عدم استحکام رہا اور سرمایہ کاروں نے اپنے کاروبار یہاں سے منتقل کر دیے۔ جب تک افغانستان اور سینٹرل ایشیا کے ساتھ تجارت بحال نہیں ہوتی صوبہ معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو سکتا۔
اسد قیصر نے خبردار کیا کہ ایک بار پھر اس خطے میں نئی جنگ کی بنیاد رکھی جا رہی ہے، مگر عوام اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سفارت کاری کو موقع دیا جائے اور وہ ممالک جو امن کے لیے کوشش کر رہے ہیں، وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں۔
عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں جیل قوانین کے مطابق ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، حالانکہ جیل مینوئل کے مطابق ہر قیدی کو ملاقات کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان ملک کے سابق وزیر اعظم ہیں اور ان کے خاندان اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے ملاقات نہ کروانا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دیوار سے نہ لگایا جائے۔ اگر ہمیں جینے نہیں دیں گے تو ہم آپ کو بھی جینے نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم قانون اور آئین پر یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام فیصلے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہوں۔





