گورنر راج یا سیاسی کھیل؟ شفیع جان اور شیخ وقاص اکرم بول پڑے

پشاور: پشاور میں صوبے میں گورنر راج کے حوالے سے جاری خبروں پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے سخت ردعمل دیا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر گورنر راج لگانا چاہتے ہیں تو آج ہی لگا دیں، اور ایسی ایڈونچر کی کوشش پر انہیں فوراً ردعمل کا اندازہ ہو جائے گا۔

شفیع جان نے مزید کہا کہ عطا اللہ تارڑ نے بے بنیاد الزامات لگائے، اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ ثابت کریں کہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کا دہشتگردوں سے کوئی گٹھ جوڑ ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کے جانے سے پہلے بھی گورنر راج کی باتیں ہوتی رہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی بار گورنر نے خود بھی یہ بات کہی، اور وفاقی وزیر بھی مسلسل یہ تاثر دے رہے ہیں، اس لیے یہ کوئی نئی بات نہیں۔

شیخ وقاص نے واضح کیا کہ گورنر راج کی بات وزیر اعلیٰ کو دبانے کی کوشش ہے۔ اگر وزیراعلیٰ کے خلاف کوئی منشیات یا دیگر الزامات ہیں تو ثبوت پیش کیے جائیں، اور اگر یہ الزامات بے بنیاد ہیں تو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ ہتک عزت کا دعویٰ کریں۔

یہ بھی پڑھیں : گورنر راج کی بحث گرم، ایمل ولی خان کا مؤقف سامنے آگیا

ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواکے عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے، اور اگر کسی پارٹی کے مینڈیٹ کو چھینا گیا تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔

اس سے قبل وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کا معاملہ زیر غور ہے۔

انہوں نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ دہشتگردی اور سرحدی صورتحال کے پیش نظر یہ اقدام سوچا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایسا انتظامی ڈھانچہ ہونا چاہیے جو واقعی کچھ فائدہ دے، اور کب تک شہری بے یار ومددگار رہیں گے۔

Scroll to Top