پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی ترجمان انجینئر احسان اللہ خان نے خیبرپختونخوا میں گورنر شپ کے ممکنہ ناموں پر ہونے والی قیاس آرائیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی کی نامزدگی محض قیاس آرائی ہے۔
احسان اللہ خان نے کہا کہ امیر حیدر ہوتی اے این پی کے اہم امیدوار ہیں اور حکومت کے مرکزی حصہ داروں کی جانب سے ان کا نام پیش کرنا صرف ذہنی احتراعی اقدام ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں گورنر راج کے حوالے سے اے این پی سے ابھی تک کوئی رابطہ نہیں ہوا، اور جماعت منتخب اداروں کو معطل کرنے کی قائل نہیں۔
ترجمان اے این پی نے کہا کہ صوبے کے مسائل گورنر راج سے نہیں بلکہ بہتر گڈ گورننس سے حل ہوں گے، اور صوبائی حکومت کو عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی کارکردگی پر توجہ دینی چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں 32 لاکھ ووٹرز نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا جبکہ پی ٹی آئی کے خلاف 70 لاکھ ووٹ پڑے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اکثریت نے بانی کی رہائی یا کسی سیاسی اقدام سے اتفاق نہیں کیا۔
احسان اللہ خان نے کہا گورنر شپ کے حوالے سے اے این پی سے ابھی کسی نے رابطہ نہیں کیا، اگر رابطہ ہوا تو پارٹی میں مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا،صوبائی حکومت کی رٹ موجود نہیں، موجودہ حکومت ڈیلیور نہیں کر پا رہی، پی ٹی آئی احتجاج کرنا چاہتی ہے تو پہلے حکومت چھوڑ دے،اے این پی جمہوری اداروں کے تسلسل پر یقین رکھتی ہے
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی تجویز پر غور کے بعد گورنر شپ کے ممکنہ ناموں میں اے این پی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کا نام بھی شامل ہے، تاہم پارٹی کا موقف واضح ہے کہ ابھی تک کسی رابطے یا حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں : گورنر راج کی بحث گرم، ایمل ولی خان کا مؤقف سامنے آگیا
جبکہ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ گورنر راج کے حوالے سے ہونے والے حکومتی مشاورتی عمل سے اے این پی کو دور رکھا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کا نظریہ عدم تشدد، امن اور انسانی وقار پر مبنی ہے، اس لیے ایسے فیصلوں میں اے این پی کا نام شامل نہ کیا جائے جو اس کے نظریاتی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے۔
اپنے بیان میں ایمل ولی خان نے کہا کہ اے این پی کی بنیاد خدائی خدمتگار تحریک کے اصولوں—عدم تشدد، برداشت اور انسانی احترام—پر استوار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پشتون قوم نے ہمیشہ نوآبادیاتی جبر اور انتہاپسندی کے مقابل باوقار اور اصولی مؤقف اپنایا ہے، اور اے این پی 1986 سے جمہوری سوشلزم، وفاقیت اور عوامی حقوق کی مضبوط آواز رہی ہے۔
ایمل ولی خان نے واضح کیا کہ پارٹی کا نظریہ بین المذاہب ہم آہنگی، امن، ترقی اور انصاف سے جڑا ہے اور آج بھی اے این پی پاکستان میں جمہوریت اور برداشت کی نمایاں علامت ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ گورنر راج کے معاملے میں اے این پی کا نام شامل نہ کیا جائے۔





