اسلام آباد میں آج پارلیمنٹ کا اہم مشترکہ اجلاس طلب کرلیا گیا ہے جس میں متعدد کلیدی قومی قوانین کی منظوری دی جائے گی۔ اجلاس کا 15 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق مختلف بلز پر بحث اور حتمی منظوری متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوقِ اقلیتاں بل 2025 پیش کیا جائے گا جس کا مقصد ملک میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے مؤثر فریم ورک قائم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2025 بھی ایوان میں منظوری کے لیے رکھا گیا ہے جس سے سیکرٹریٹ کے انتظامی ڈھانچے اور ملازمین کے امور میں اصلاحات کا امکان ہے۔
اجلاس کے ایجنڈے میں حیاتیاتی اور زہریلے ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق کنونشن عملدرآمد بل 2024 بھی شامل ہے، جس کا مقصد عالمی معیار کے مطابق بایولوجیکل ویپنز کی روک تھام کے لیے پاکستان کے قانونی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
اس کے علاوہ تعلیم اور تحقیق کے شعبے سے متعلق متعدد اہم بلز بھی پیش کیے جائیں گے۔ ان میں:
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2023
نیشنل یونیورسٹی برائے سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد کے قیام کا بل 2023
اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2023
گھرکی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025
شامل ہیں، جن کا مقصد جدید تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ کے لیے نئے تعلیمی اداروں کا قیام اور ان کے لیے قانونی حیثیت کا تعین کرنا ہے۔
پارلیمنٹ کے آج ہونے والے اس اہم اجلاس میں ملکی قانون سازی کے سلسلے میں کئی اہم پیش رفت متوقع ہے، جبکہ حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کی جانب سے مختلف بلز پر تفصیلی بحث بھی متوقع ہے۔





